نئی دہلی، 7؍ اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ اسے عام آدمی پارٹی حکومت سے یہاں کی تمام ضلع عدالتوں کے پبلک پراسکیوٹروں کی تنخواہ کے جائزے کو منظوری دینے کی ایک تجویز ملی ہے۔مرکزی حکومت نے یہ بات جسٹس منموہن کے سامنے اس وقت کہی جب ہائی کورٹ نے مرکز کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر کے پوچھا کہ دہلی میں مختلف اقسام کے پراسکیوٹروں کی تنخواہ میں اضافہ کے لیے کوئی تجویز نہیں ملنے کا جھوٹا حلف نامہ دائر کرنے کے لیے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے؟ہائی کورٹ کو مرکزی حکومت کے مستقل وکیل نے بتایا کہ دہلی حکومت کی ارسال کردہ تجویز مرکز کو مل گئی ہے اور وہ وزارت خزانہ کے پاس ہے۔مرکز کے وکیل نے کہاکہ ہمیں یہ فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت چاہیے کہ وزارت کیا قدم اٹھائے گا۔عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 15؍ستمبر طے کی ہے۔اس سے پہلے مرکز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسے دہلی حکومت سے پبلک پراسکیوٹر کی تنخواہ کے جائزہ کو منظوری دینے کے لیے کوئی تجویز نہیں ملی ہے۔اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے آپ حکومت نے کہا تھا کہ گزشتہ دسمبر میں اس نے پبلک پراسکیوٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ کو منظوری دینے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کو ایک کابینہ نوٹ بھیجا تھا۔مرکز کی طرف سے یہ ردعمل ایک مفاد عامہ کی عرضی کی بنیاد پر دئے گئے عدالت کے نوٹس پر آیا ہے ۔درخواست میں داخلہ سکریٹری پر اس کے 9 ؍ستمبر 2015کے حکم کی تعمیل نہ کرنے کے لیے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔